Bullet-ridden bodies found in Karachi have been identified as Baloch Missing Persons

Baluch Sarmachar

karachi-sindhKarachi: Two mutilated bodies that were discovered in Mangho Peer area of Karachi on 19 May have been identified as that of Hanif and Nawaz Marri Baloch on Tuesday.

The victims were residents of Hub town of Balochistan and were reportedly abducted few months ago. However, the exact date of their abduction could not be ascertained immediately.

The bodies were kept at the Edhi morgue for identification since their recovery.

View original post 54 more words

کراچی: بی ایس او کے یوم تاسیس پر تقریب منعقد

Save Life BSO Azad Chairman Zahid Baloch

Haqetawar

رپورٹ: حال حوال

لوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی طرف سے چھبیس نومبر کو یومِ تاسیس کے حوالے سے کوئٹہ ، کراچی، کولواہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان پروگراموں میں بی ایس او کے کارکنوں، ٹیچرز اور عام لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ا نچاسویں یومِ تاسیس کے حوالے سے کراچی میں ایک سیمینار بعنوان ”طلبا کے لیے سیاست کیوں ضروری ہے“ منعقد کیا گےا۔ سیمینار کی صدارت بی ایس او آزاد کے مرکزی کمیٹی کے رکن چراغ بلوچ نے کی۔ اس سیمینار میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی کارکن فاطمہ زیدی، عوامی جمہوری محاز کے خرم علی، انقلابی سوشلسٹ کے ڈاکٹر ریاض احمد، سماجی کارکن وہاب بلوچ اور صحافیوں سمیت اسٹوڈنٹس اور دیگر شعبوں کے لوگوں نے شرکت کی۔ سیمینار میں بی ایس او آزاد کے جنرل سیکرٹری عزت بلوچ اور بلوچ دانش ور اور لکھاری ماما محمد علی تالپور کے مضامین بھی…

View original post 1,402 more words

BALOCHISTAN AY FACTOR IN GLOBAL POLITICS

By Prof. Dr. Umbreen Javaid Director, Centre for South Asian Studies, Chairperson, Department of Political Science, University of the Punjab, Lahore, Pakistan Javeria Jahangir PhD Scholar Centre for South Asian Studies, University of the Punjab, Lahore, Pakistan Abstract Balochistan is a land which has always been visited by different nations throughout the history. Despite of […]

via Balochistan: A Key Factor in Global Politics — Balochi Linguist

”کیا پاکستان ٹوٹے گا؟“

LONG LIVE BALOCH LIBERATION MOVEMENT

Baluch Sarmachar

کارنیگی انڈاو منٹ فار انٹرنیشنل پیس میں مرکز برائے بین الاقوامی پالیسی کے ایشیاء پروگرام کے ڈائریکٹر سلیگ ایس ہیریسن کے ریمارکس

(ریمارکس کی 9جون 2009ءکی تقریر کیمطابق جانچ نہیں کی گئی ہے)

ترجمہ: لطیف بلیدی

Selig S Harrisonمیں اپنی تقریر کا آغاز کتاب کے ایک حوالے کیساتھ شروع کرنے جا رہا ہوں۔ یہ اقتباس میرے نزدیک پاکستان کے موضوع پر لکھی گئی ایک اہم کتاب سے ہے جسکا نام ’گریٹ گیم کی پرچھائی: تقسیم ہند کی ان کہی داستان‘ ہے، جسے نریندراسنگھ ساریلا نے لکھا ہے جوکہ ایک ریٹائرڈ بھارتی سفارتکار اور ماونٹ بیٹن کے اے ڈی سی تھے۔ انہیں برطانوی آرکائیوز تک بے مثال حد تک رسائی حاصل تھی۔ اپنی کتاب میں انہوں نے تفصیلی اور حتمی ثبوت پیش کیے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ حتیٰ کہ مارچ 1945ء کے اوائل میں ونسٹن چرچل اور برطانوی جنرل اسٹاف نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اسٹراٹیجک وجوہات کی بناء پر…

View original post 3,946 more words